ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر کانگریس کی ”رسمی تشویش“۔ ملک میں کلیدی اپوزیشن جماعت نے مظالم کی مذمت کرنے سے گریز کیا، دیرینہ موقف سے انحراف

فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر کانگریس کی ”رسمی تشویش“۔ ملک میں کلیدی اپوزیشن جماعت نے مظالم کی مذمت کرنے سے گریز کیا، دیرینہ موقف سے انحراف

Sun, 16 May 2021 10:55:09    S.O. News Service

نئی دہلی،16؍ مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) اسرائیل کی طرف سے فلسطین میں جاری مسلسل تشددپر مذمتی بیان جاری کرنے میں کانگریس پارٹی کی طرف سے تذبذب سامنے آیا ہے۔ بائیں پارٹیوں نے جہاں اسرائیل کے جبر کی سخت مذمت کی ہے۔ کانگریس پارٹی میں دیر سے جاری کئے گئے اپنے بیان میں اسرائیل کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اسرائیلی فورسس کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر حملے اور غزہ میں فلسطینی عوام پر مظالم پر اسرئیل کی نکتہ چینی کی بجائے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر رسمی تشویش ظاہر کی۔ حسب توقع نریندر مودی حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی۔ جب کہ کلیدی اپوزیشن جماعت نے فلسطین کے متعلق اپنے دیرینہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو ذہن میں رکھ کر احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں اے آئی سی سی کے شعبہئ مواصلات کے انچارج جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا سے جب سوال کیاگیا تو انہوں نے صرف یہ کہہ کر انحراف کردیا کہ اس معاملے میں الگ سے بات چیت ہوگی۔ جب کہ اصرار کیا گیا تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہاکہ فی الوقت وہ اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جمعہ کی شام پارٹی کے شعبہئ خارجہ کے چیرمین آنند شرما نے ایک متوازن بیان جاری کرتے ہوئے طرفین کو مشورہ دیا کہ تشدد کو ختم کریں اور ساتھ ہی امن کی بحالی کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کی درخواست کی۔ اسرائیل کے مظالم پر مودی حکومت کی خاموشی کے متعلق کانگریس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

کانگریس کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا اس میں مشرقی یروشلم،غزہ اوراسرائیل میں بڑھتے ہوئے تشدد کو عالمی تشویش کا سبب بتایاگیا اور کہاگیا کہ فلسطینی عوام کو محفوظ ماحول میں باوقار زندگی بسرکرنے کا حق حاصل ہے اتنا ہی حق اسرائیلی عوام کا بھی ہے کانگریس نے کہاکہ مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے کے فلسطینی عوام کے حق کا بغیر کسی پابندی کے احترام کیا جانا چاہئے۔ یروشلم میں تشدد کے واقعات کی کانگریس نے مذمت سے گریز کرتے ہوئے ان پر اپنی تشویش ظاہر کی۔ غزہ پر فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ حملوں میں ہوئے جانی نقصان اور املاک کی تباہی پر بھی پارٹی نے وہی رسمی تشویش دہرائی ہے۔

ہندوستان نے پارٹی سے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک متحرک رکن کے طور پر اسے اس خطہ میں امن کے لئے جدوجہد کرنا چاہئے۔ کانگریس کے حلقوں میں یہ مانا جارہا ہے کہ پارٹی نے اب جو موقف اپنایا ہے وہ کانگریس پارٹی کے دیرینہ موقف سے انحراف ہے۔ جواہر لال نہرو سے لے کر راجیو گاندھی تک کی سبھی کانگریس حکومتوں نے فلسطین کے کاز کی کھل کر حمایت کی تھی۔ لیکن اب پارٹی نے الگ ہی موقف کا اظہارکیا ہے۔ ان حلقوں میں یہ رائے ہے کہ پارٹی کو بائیں جماعتوں سے سبق سیکھنا چاہئے جنہوں نے فوری بیان جاری کرکے غزہ اور مشرقی یروشلم میں مظالم کی مذمت کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر پابندیوں کی بھی مانگ کی۔ ان پارٹیوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس ملک میں بسے ہوئے فلسطینیوں کے تئیں اسرائیل اس قدر ظالم ہوچکا ہے کہ وہ انہیں غلام بنانا چاہتا ہے۔

کانگریس پارٹی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں اس طرح کے سخت جملے تو دور بلکہ تشدد کو ختم کرنے کے لئے محض رسمی بیان تک کانگریس پارٹی نے اپنے آپ کو محدود رکھا۔ کانگریس کے بیان میں حکومت ہند سے کہاگیا ہے کہ بحیثیت رکن سلامتی کونسل فلسطین کے متاثرین کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے کے لئے جدوجہد کرے۔ ساتھ ہی پارٹی نے اقوام متحدہ سے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے متحرک ہونے پر زور دیا۔


Share: